فاصلے تو پیار کی پہچان ھوا کرتے ھیں
Poet: MZ By: MZ, karachiفاصلے تو پیار کی پہچان ھوا کرتے ھیں
نہ جانے کیوں لوگ پریشان ھوا کرتے ھیں
یہ حقیقت ھے کہ جھاں ٹوٹ کے چاھا جائے
وھاں بچھڑنے کے امکان ھوا کرتے ھیں
محبت بھی طوفا اٹھا دیتی ھے دل میں
پھر رستے سنسان ھوا کرتے ھیں
دل بھی تو اک گھر ھے جو کبھی بستہ ھے
اجڑے تو پھر جیسے خالی مکان ھوا کرتے ھیں
بچھڑے کبھی لوٹ کر نھیں آتے ،ایزی
بس فقط یادوں کے کچھ نشان ھوا کرتے ھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






