فخر ہے مجھ کو یارو کہ میں اک پاکستانی ہوں (١)
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiچہار طرف ہیں ڈنکے جس کے ایسی امر کہانی ہوں
اونچائی ہوں پربت کی اور دریا کی روانی ہوں
حلقہء یاراں میں گویا شبنم کی جولانی ہوں
دشمن کو جو تباہ کرے، تُند تیز ہوا طُوفانی ہوں
پاک وطن کا باسی ہوں اور قوت ایمانی ہوں
فخر ہے مجھ کو یارو کہ میں اک پاکستانی ہوں
سرسید کی فکر ہوں میں اور قائد کی آواز
میں اقبال کا شاہیں ہوں، ہے بُلند میری پرواز
حوصلہ میرا سب سے سوا اور جُدا میرا انداز
دریا، پربت، جنگل، صحرا سب کا میں ہمراز
بہتا جھرنا امن کا ہوں پر جنگ میں میں طُغیانی ہوں
فخر ہے مجھ کو یارو کہ میں اک پاکستانی ہوں
مذہب میرا پیار ہے پیارے، پیار سے مجھ کو پیار
ظلم، جبر، نفرت سے یارو رہتا ہوں بیزار
مظلوموں کی مدد کی خاطر، میں ہردم تیار
میں ٹیپو کی غیرت ہوں میں قاسم کی للکار
میں شمشیرِ حق بھی ہوں اور بُرہانِ ربّانی ہوں
فخر ہے مجھ کو یارو کہ میں اک پاکستانی ہوں
سندہ کا چٹیل میداں ہوں، پنجاب کا بہتا پانی ہوں
پختونوں کی حمیّت ہوں، بلوچ کا عزم چٹانی ہوں
میں اس مٹی کی حرمت ہوں، میں اس کی نشانی ہوں
رنگِ لہو سے لکھی گئی جو وہ انمول کہانی ہوں
حق پرستی کی نصرت ہوں، باطل کی پریشانی ہوں
فخر ہے مجھ کو یارو کہ میں اک پاکستانی ہوں
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






