فراتِ ہجر میں بے آسرا بھی تھا اک شخص

Poet: سید عقیل شاہ By: سید عقیل شاہ, سرگودھا

فراتِ ہجر میں بے آسرا بھی تھا اِک شخص
انا کی دھوپ میں پتھر بھی ہو گیا اِک شخص

تمام شہر پہ وحشت اُسی کے ہجر کی تھی
گئے دنوں میں جو مجھ سے جدا ہوا اِک شخص

کنارے پر تھے اُسے بے بسی سے دیکھتے لوگ
صدائیں دیتا رہا دریا میں ڈوبتا اِک شخص

کوئی تھا دوست یا دشمن یا اجنبی تھا کوئی
بڑی ہی دیر مجھے دیکھتا رہا اِک شخص

یہ صدیوں پھیلی جدائی مٹا بھی سکتے تھے
اے کاش میرے لئے کچھ دیر سوچتا اِک شخص

عقیلؔ جس کے بنا جینے کا حوصلہ بھی نہ تھا
تمام عمر وہی میرا نہ ہو سکا اِک شخص
 

Rate it:
Views: 610
08 Jun, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL