فرد جو کوئی سعی اور جہد بھی کرے
Poet: ناصر دھامسکر-مجگانوی By: Nasir Ibrahim Dhamaskar, Ratnagiriفرد جو کوئی سعی اور جہد بھی کرے
خلق خدا کا ہمیشہ جو درد بھی کرے
خوش نصیبی ملیگی انہیں جو یہاں
گر دوسروں کے لئے وقف رہیں جو یہاں
ٹوٹے ہوئے دل کی آہیں پہنچے جلد بھی
عرش ہلا رکھ دے، پھر جو ملے تائید بھی
نیک خیالات بھی آتے ہیں دل میں کبھی
جزبہ بڑھاتے ہیں جو خوب محفل میں کبھی
خاص کرم جو ملے بھی کسی کو تو ملے
قلب میں ہو جو حقیقی سی تڑپ پھر بنے
بے وجہ ناصر کسی کو نہیں ٹوکا کریں
پردہ دری سے بھی پرہیز روا سا رکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






