فرقتوں کے موسم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
Poet: Qasim Baba By: Qasim Baba, Slough. Londonفرقتوں کے موسم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
وحشتوں کے عالم میں٬ میں بھی ھُوں تم بھی ھو
ھجر کی مسافت ھےدرد مثلِ قاتل ھے
ایک ایسے ھی غم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
مرمریں سی راھیں ہوں ھمسفر محبت ھو
خواہشوں کے ریشم میں ٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
آرزوئے الفت میں ایک تم نہیں گھائل
تیری چشمِ پرنم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
تُو اگر پریشاں ھو درد مجھ کو ھوتا ھے
سچ ھے جسمِ قاسم میں٬میں بھی ھُوں تم بھی ھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






