فساد کے بعد

Poet: Javed Akhtar By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

گہرا سَنّاٹا ہے
کچھ مکانوں سے خاموش اُٹھتا ہوا
گاڑھا کالا دُھواں
مَیل دل میں لئے
ہر طرف دُور تک پھیلتا جاتا ہے
گہرا سَناّٹا ہے
لاش کی طرح بے جان ہے راستا
ایک ٹُوٹا ہوا ٹِھیلا
اُلٹا پڑا
اپنے پہئے ہَوا میں اُٹھائے ہوئے
آسمانوں کو حیرت سے تَکتا ہے
جیسے کہ جو بھی ہوا
اس کا اب تک یقیں اس کو آیا نہیں
گہرا سَنّاٹا ہے
اک اُجڑی دُکاں
چیخ کے بعد منہ
جو کُھلا کا کُھلا رہ گیا
اپنے ٹُوٹے کِواڑوں سے وہ
دُور تک پھیلے
چُوڑی کے ٹکڑوں کو
حسرت زدہ نظروں سے دیکھتی ہے
کہ کَل تک یہی شیشے
اس پوپلے منہ میں
سو رنگ کے دانت تھے
گہرا سَنّاٹا ہے
گہرے سَنّاٹے نے اپنے منظر سے یوں بات کی
سُن لے اُجڑی دُکاں
اَے سلگتے مکاں
ٹُوٹے ٹھیلے
تمہیں بس نہیں ہو اَکیلے
یہاں اور بھی ہیں
جو غارت ہوئے ہیں
ہم ان کا بھی ماتم کریں گے
مگر پہلے ان کو تو رو لیں
کہ جو لُوٹنے آئے تھے
اور خود لُٹ گئے
کیا لُٹا
اس کی ان کو خبر ہی نہیں
کم نظر ہیں
کہ صدیوں کی تہذیب پر
ان بِچاروں کی کوئی نظر ہی نہیں

Rate it:
Views: 416
12 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL