فسادوں کا چلن عام ہو پھر سے

Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Dubai-U.A.E

تحقیر میں ڈوبا ہوا الزام ہو پھر سے
مٹ جائیں اجالے کے یہاں شام ہو پھر سے

سازش کے نئے جال بچھانے کا ہے مقصد
مہراں میں فسادوں کا چلن عام ہو پھر سے

بارہ مئی دھرانے کا دل میں ہے تمنا
شائد یوں کراچی میں قتل عام ہو پھر سے

کذاب عصر ، خونی ،لٹیرے کی ہے خواہش
منصب وہ وزارت کا میرے نام ہو پھر سے

لوٹوں میں حکومت کے مزے عیش اڑا ؤں
ہاتھوں میں وہ طاقت سے بھرا جام ہو پھر سے

اپنوں کو نوازوں میں خزانے کو لٹا کر
دولت کو سمیٹوں یہ میرا کام ہو پھر سے

پستی میں گزارے ہیں یاں ذلت کے کئی سال
اب تو میرے ٹولے کو یہاں با م ہو پھر سے

Rate it:
Views: 490
10 Jan, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL