فسادوں کا چلن عام ہو پھر سے
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Dubai-U.A.Eتحقیر میں ڈوبا ہوا الزام ہو پھر سے
مٹ جائیں اجالے کے یہاں شام ہو پھر سے
سازش کے نئے جال بچھانے کا ہے مقصد
مہراں میں فسادوں کا چلن عام ہو پھر سے
بارہ مئی دھرانے کا دل میں ہے تمنا
شائد یوں کراچی میں قتل عام ہو پھر سے
کذاب عصر ، خونی ،لٹیرے کی ہے خواہش
منصب وہ وزارت کا میرے نام ہو پھر سے
لوٹوں میں حکومت کے مزے عیش اڑا ؤں
ہاتھوں میں وہ طاقت سے بھرا جام ہو پھر سے
اپنوں کو نوازوں میں خزانے کو لٹا کر
دولت کو سمیٹوں یہ میرا کام ہو پھر سے
پستی میں گزارے ہیں یاں ذلت کے کئی سال
اب تو میرے ٹولے کو یہاں با م ہو پھر سے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






