فقرہ
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiمجھ سے مل کر وہ بھی شاید بدگماں ہو جائے گا
" میرا ہر فقرہ مکمل داستاں ہو جائے گا "
بس مجھے خاموش رہنے دو یہی بہتر بھی ہے
بات جو نکلی تو پھر سب کچھ بیاں ہوجائے گا
تم سے ملنے کا کوئی بھی اب ارادہ ہے نہیں
سلسلہ پھر منقطع یہ میری جاں ہو جائے گا
آج مجھ کو ہے گماں لازم وہ آئیں گے یہاں
جو نہ ہونا تھا کبھی وہ بھی یہاں ہو جائے گا
ساری یادوں کو ڈبو ڈالے گا یوں شب بھر میں وہ
آنکھ سے میری اگر دریا رواں ہو جائے گا
آج ان کے آنے پر یہ عین ممکن ہے کہ اب
درد جو دل میں تھا پنہاں اب عیاں ہو جائے گا
کیوں تو لکھتا ہے اب ارشیؔ باتیں ساری سچ یہیں
پھر مخالف اب ترے سارا جہاں ہو جائے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






