فقط کاغز کا ٹکڑا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارکفقط کاغز کا ٹکڑا ہے
نہیں اس کی کچھ قیمت
مگر یہ مری خاطر قیمتی ہے جان سے بڑھ کر
یہ کاغز کا ٹکڑا پھر بھی مرے واسطے انمول
چھپا کر اس کو رکھتی ہوں
حفاظت اس کی کرتی ہوں
مجھے ڈر اس کے کھونے کا لگا رہتا ہے ہر لحمہ
یہی کاغز کا ٹکڑا اک خزانہ مجھکو لگتا ہے
یہ کاغز تو نہیں صاحب کی تصویر ہے مری
فقط کاغز کا ٹکڑا ہے نہیں کچھ جان ہے اس میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






