فقیر , شہر میں ایسے کبھی صدا دیں گے

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

فقیر , شہر میں ایسے کبھی صدا دیں گے
تمام شہر کے دِیوار و دَر ہِلا دیں گے

دِیئے غریب کی کُٹیا کے چھیننے والو
دِیئے تُمہارے سبھی گھر کو ہی جلا دیں گے

ہماری کُٹیا جو تَرسی کبھی چراغوں کو
نہ دیں گے انس تو جُگنُو ہمیں ضیا دیں گے

کبھی تو عرش پہ بیٹھا بھی بول اُٹھّے گا
خُدا یہ فرش کے کب تک ہمیں سزا دیں گے

ستا نہ پاۓ گا وہ عُمر بھر کسی کو بھی
سِتم ظریف کو بسمل یُوں بدعا دیں گے

صدائیں حق کی سدا مقتلوں میں گُونجیں گی
کٹا کے سر بھی سدا حق کی ہم صدا دیں گے

کہ مِٹ تو جائیں گے دُنیا سے ہم بھی اے باقرؔ
مگر یہ ظُلم کا نام و نشاں مِٹا دیں گے
 

Rate it:
Views: 756
21 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL