نہ مجھ سے میری چُھڑا غریبی

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

نہ مجھ سے میری چُھڑا غریبی
ہے میری حاجت روا غریبی

کہ جب سے میں نے جنم لیا ہے
سبق ہے میں نے پڑھا غریبی

ہے اپنے قدموں پہ کیسے چلنا
گئی ہے مجھ کو سکھا غریبی

میں ساتھ اس کا نبھا رہا ہوں
ہے مجھ کو دیتی دعا غریبی

یہ ہے جو بچپن سے میری ساتھی
تو کیسے دوں میں بُھلا غریبی

وہ بندہ پیارا ہے اپنے رب کو
کہ جس کو دے دے خدا غریبی

زمانہ سارا ہی چھوڑ دے گا
مگر کرے گی وفا غریبی

اے لوگو اس سے نبھا کے دیکھو
کبھی نہ دے گی دغا غریبی

کہ جس پہ ناراض میرا رب ہو
ہے اس کو لگتی سزا غریبی

سمجھتا ہوں میں غریب کے دکھ
رہی ہے مجھ پہ سدا غریبی

مُـــــریدؔ مالک کی یہ عطا ہے
تُو اپنے دل سے لگا غریبی

Rate it:
Views: 710
21 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL