فلسفہ محبت
Poet: رمشا ملک By: Rimsha Malik, Hyderabadاک فلسفہ محبت ہے
نم آنکھوں سے جو کہہ دوں میں
یہ رات اندھیری ہو جائے
اور دل سیاہی ہوجائے
اور ہجر کی جلتی شاموں میں
میرے نین یہ جل تھل ہو جائیں
نم آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں
اور شکوہ کناں یوں رہتی ہیں
تم دور سہی تھے دور بہت
تم دور ہی رہتے اچھا تھا
اس الفت یک طرفہ سے
میرے دل کا روگ ہی اچھا تھا
اس غم کی گہری آنہوں سے
مجھے پل پل یونہی مرنا تھا
اک کرب سا دل میں اٹھتا ہے
اور چپکے سے یوں کہتا ہے
تم دور سہی تھے دور بہت
تم دور ہی رہتے اچھا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






