فلک کے ستارے میری بات سن!
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiفلک کے ستارے میری بات سن!
سخن کی زباں میں کچھ الفاظ بن!
کیا تو نے ہے دیکھی وہ نازک پری؟
جو دیکھی تو ہے تیری قسمت بڑی!
کیا اس نے تجھ سے کبھی بات کی؟
بتائی کوئی بات میری ذات کی؟
ہوا کے جھونکے بتا تو مجھے!
اس کے نگر میں ملا کیا تجھے؟
کیا چہرے سے اس کے ہٹائے تھے بال؟
کیا ہے اس کا ویسا ہی رعب و جمال؟
مجھے تیری قسمت کا ارمان ہے!
شب و سحر تو اس کا مہمان ہے!
چندا تجھے کیسے چھوڑوں گا میں؟
تیرے راز سارے جھنجھوڑوں گا میں!
کیا تیری چاندنی تجھ کو مدہم لگی؟
رخِ یار سے ہے بہت کم لگی؟
کیا تجھ کو بھی اس نے کہا کچھ کبھی؟
جو باتیں کہی تھی بتا کچھ ابھی!
تجھے تو وہ دکھتا ہے شام و سحر،
تری دسترس میں ہے اس کا شہر،
مجھے تجھ سے کچھ کچھ حسد ہوچلی،
نہیں دسترس میں میری وہ گلی!!!
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






