فی البدیہہ
Poet: نویدصدقی By: نویدصدیقی, لودھراںجہاں پہ لوگ گھٹن کی فضا میں زندہ ہیں
ہم ایسے شہر کی آب وہوا میں زندہ ہیں
تمھاری ذلف کی خوش بو جو کھینچ لائی تھی
ہم اہلِ دل اسی موجِ صبا میں زندہ ہیں
دکھائی دیتی نہیں انقلاب کی صورت
کہ لوگ خیمہء صبرورضا میں زندہ ہیں
انھی کی لو میں سفر زندگی کا جاری ہے
چراغ جو رہ کرب وبلا میں زندہ ہیں
یہاں کسی کی صدا کوئی بھی نہیں سنتا
زمین زاد ہیں لیکن خلا میں زندہ ہیں
یہ جبرِ زیست ہے اپنا کوئی کمال نہیں
یہ ہم جو عہدِ ستم آشنا میں زندہ ہیں
گلہ نہیں ہے زمانے کی کج ادائی کا
فقیر لوگ ہیں اپنی ہوا میں زندہ ہیں
اور اب دیکھے کا سودا
روانہیں ہے مگر ناروا میں زندہ ہیں
سب اپنے اپنے غموں کی ردا میں زندہ ہیں
ہے یہ بھی اپنے دکھوں سے بچاءو کا رستا
کہ لوگ خیمہء صبرورضامیں زندہ ہیں
امیرِ شہر کو راس آگئی ہے سفاکی
غریبِ شہر مگر ابتلا میں زندہ ہیں
طلب سے بڑھ کے ملا ہے ہمیں مگر پھر بھی
ہزار خواہشیں دستِ دعا میں زندہ ہیں
یہ معجزہ بھی وفا کے سبب ہوا ممکن
نوید حلقہء اہلِ جفا میں زندہ ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






