قائم اقرار وفا پہ وہ رہا ہی کب ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, سانگلہ ہلقائم اقرار وفا پہ وہ رہا ہی کب ہے
مجھ کو اس ترک تعلق کا گلہ ہی کب ہے
تونے دیکھا ہی نہیں چاند کو عریاں شاہد
ورنہ پردے میں کبھی چاند رہا ہی کب ہے
وقفہ وصل کا ملا ہے تو ملا ہی کتنا
شب تنہائی کے اک پل کا صلہ ہی کب ہے
مسئلہ یہ نہیں کیسے ہوا ناطہ اس سے
ربط اس دل کا ترے غم کے سوا ہی کب ہے
لرزش لب سے ادا ہوتا ہے مفہوم نواز
حرف منت کش آواز ہوا ہی کب ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






