قافلہ موج یقیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: washma khan, Kuala Lampurقافلہ موجِ یقیں کا جب رواں ہو جائے گا
پھر سلامت کشتیوں کا بادباں ہو جائے گا
پاؤں کا ذرہ زمیں کا آسماں ہو جائے گا
"میرا ہر فقرہ مُکمل داستاں ہو جائے گا"
درد کا سورج چھپے گا بادلوں کی اوڑھ میں
زندگی کا راستہ اب مہرباں ہو جائے گا
میرے ہاتھوں کی لکیروں کو کوئی سمجھا نہیں
کیسے کہدوں وہ بھی میرا رازداں ہو جائے گا
دیکھتے ہی دیکھتے لو پھر دسمبر آ گیا
پھر نیا اک زندگی کا امتحاں ہو جائے گا
آج کھولا ہے یہاں پر جگنوؤں نے راستہ
خوب روشن تیرگی کا یہ سماں ہو جائے گا
کیا حقیقت ہے یہاں پر مفلس و نادار کی
وشمہ تیرا بھی عقیدہ اب عیاں ہو جائے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






