قتل بھی بخشش بھی
Poet: روخشان By: اختر ایوب آفریدی, Peshawarکیا خوب ستم کرتے ہو، احسان بھی رکھتے ہو
خنجر بھی اٹھاتے ہو، قرآن بھی رکھتے ہو
جس بزم میں بیٹھے ہو، وہ آتش کدہ لگتی
اور کہتے ہو ہم خاک نشاں جان بھی رکھتے ہو
ظاہر میں ہو لب خندہ، باطن میں ہو صیادہ
اک مسکاں دکھاتے ہو، طوفان بھی رکھتے ہو
ہم جیسے گدا کو تم، پندار کا درس دو گے؟
واں تخت سجاتے ہو، زندان بھی رکھتے ہو
دم ساز تمھارا کون؟ ہر درد پہ پردہ ہے
دل میں جو خراشیں ہیں، انبان بھی رکھتے ہو
ہاں قتل کرو لیکن یہ دعویٰ نہ کرو ہرگز
کہ تم ہاتھ بھی دھو بیٹھے، ارمان بھی رکھتے ہو
روخشان کو گوارا ہے رسوائی کی بارش بھی
تم جلوہ بھی دکھلاؤ، طوفاں بھی رکھتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






