قریب آ کہ تیرے بن اداس رہتا ہوں
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanقریب آ کہ ترے بن اداس رہتا ہوں
تری جدائی کا غم ہر گھڑی میں سہتا ہوں
ہوں زخم زخم مگر آہ بھر نہیں سکتا
میں اپنے درد کا اظہار کر نہیں سکتا
سروں میں،گیتوں میں اب دل کی بات کہتا ہوں
تری جدائی کا غم ہر گھڑی میں سہتا ہوں
قریب آ کہ ترے بن اداس رہتا ہوں
تمام رات یونہی جاگ کے گزرتی ہے
سحر بھی آ کے بہت بے قرار کرتی ہے
غموں کے بحر میں اک موج بن کے بہتا ہوں
تری جدائی کا غم ہر گھڑی میں سہتا ہوں
قریب آ کہ ترے بن اداس رہتا ہوں
تری جدائی کا غم ہر گھڑی میں سہتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







