قسم
Poet: صداقت حسین By: صداقت حسین, Duniyapurجينےکى قسم جو دى ہے اُس نے سو اب جياکروں گا
زندگى زہر سى کردى اُس نے سو اب يہ زہر پياکروں گا
اُس کى ياد کے زخموں کو اپنے درد کى سوئى سے
روز روز ہر روز سِياکروں گا مگر قسم جو کهائى ہے جياکروں گا
سوچتا هوں زہر بهى پِيا کروں گا مگر پهر کيسے جيا کروں گا
جينےکى قسم جو دى ہے اُس نے سو اب جِياکروں گا
جى نہ سکوں اور نہ مروں زہر اب کوئى ايسا پِيا کروں گا
اُس کى يادوں کواُٹهاۓ کبهى اِس گلى کبهى اُس گلى پهراکروں گا
خودکشى تو کرنى نہيں سو اب کچھ اور ہى کيا کروں گا
کچھ روز زنده رہنے کے ليے ہر روز ہر پل ہر لمحہ مرا کروں گا
مارکر ٹهوکرشيشےجيسےخوابوں کوپهرکنکرلبوں سےچُنا کروں گا
اورپهر تنہا دور کسى جنگل ميں تنہا تنہا ہى رہاکروں گا
چپ ميں ہميشہ ہميشہ ہميشہ ہى رہا کروں گا
ميرےسامنےجب کبهى تُوآئى توتجھے صرف اتناکہاکروں گا
توخوش رہاکرہميشہ تجهےاُداس ديکھ کرميں مرا کروں گا
توخوش رہى تو ميں نہ تجھ سےملاکروں گا نہ گِلاکروں گا
نہ جى سکوں گانہ مراکروں گا ميں مگرکوشش کيا کروں گا
جينےکى قسم جو دى ہے اُس نے سو اب جيا کروں گا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






