قسمت کی لکیروں سے یوں پتھر نہیں جاتے
Poet: By: Shahid Hasrat, Multanقسمت کی لکیروں سے یوں پتھر نہیں جاتے
ہاتھوں کو جلانے سے مقدر نہیں جاتے
مدت سے اداسی نے بھی ڈالا ہے پڑاؤ
آنگن سے بھی اس درد کے لشکر نہیں جاتے
ٹوٹے ہوں جو پھینکے ہوئے پتھر سے کسی کے
ان کانچ کے ٹکڑوں کے کبھی ڈر نہیں جاتے
اے وقت ذراٹھہر کہ میں لمحے سنبھالوں
نظروں میں اتر آئیں تو منظر نہیں جاتے
ہر روز ہی دیتے ہو چلے جانے کی دھمکی
تم جاتے ہو تو جاؤ کہ ہم مر نہیں جاتے
جس در پہ دیا بیٹھی ہوں حسرت کی بلائیں
خواہش کے لٹیرے وہاں اندر نہیں جاتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






