قصور تو ان آنکھوں کا ہے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

کوئی ناجانے
ان آنکھوں میں کتنی گہرائی ہے
گرتے آنسو میں کتنی تنہائی ہے
پوچھا ! کسی نے سبیب
آنکھ سے
کیوں بہاتی ہیں تو آنسو ؟
کیوں تو اک آنسو گرا کر
شرمندہ کر دیتی ہیں ؟
بھری محفل میں تو رسوا کر دیتی ہیں ؟
آنکھ بولی ! جاتنے ہو کیا ؟
اک دل ہے
جو خون سے روتا ہے
پر کسی کو دیکھائی نہیں دیتا ہے
یہ سارا کمال تو میرا ہے
پر مجھے کوئی شباش نہیں دیتا ہے
جو میں اس خون کو
آنکھوں سے نکال کر
بے رنگ کرتی ہوں
یہ غموں میں تلخیوں میں
جل جل کڑوا ہو جاتا ہے
پر میں اسے نمکیں کرتی ہوں
پھر کیوں لوگ
مجھے خطاوار کہتے ہیں ؟
کیوں مجھ پے رنگ رنگ کے
یوہی الزام دیتے ہیں ؟
اور اگر کچھ نا بنے کہنے کو
تو آسانی سے کہتے ہیں
کہ رونا نہیں تھا ہم نے
پر قصور تو ان آنکھوں کا ہے

Rate it:
Views: 1324
21 Jun, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL