قطعات
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiاترپردیش میں قتل و غارت دیکھ کر
دل حیوانوں کے بھی ، دہل گۓ ہونگے
جو مسلمان کہتے تھے پاکستان غلط بنا ہے
اب ان کے نظریے بھی ، بدل گۓ ہونگے
کشمیری بچوں کی أہ و بکاہ بھی سنی ہوگی
جب بلواٸ تمہارے پھولوں کو ، مسل گۓ ہونگے
عصمت دری ، توہینِ مساجد ، مدارس پہ چڑھاٸ
یہ حادثے دے کر کچھ ، عقل گۓ ہونگے
کافر فرقہ پرستی کے گھناٶنے چہرے پر
کالک ایک سی ہی ، مَل گۓ ہونگے
فلک بھی اشکبار ہواہوگا جب کچھ لوگ
امانت مٹی کی ہوکر بھی ، جل گۓ ہونگے
یہ شوبز سے جڑے ہوۓ أزاد خیال مسلمان
کچھ نہ کچھ تو یہ بھی ، سنبھل گۓ ہونگے
اخلاق تم دیکھو گے اک روز مجبور ہوکر
مسلمان سبھی جہاد پر ، نکل گۓ ہونگے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






