قطعات برائے بزم سخنوراں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاانصاف زمانے میں اگر دیکھ رہے ہیں
ہم اپنی دعاؤں میں اثر دیکھ رہے ہیں
بدلی ہے زمانے کی ہوا ، سب کو مبارک
اخبار کا پرچہ ہے خبر دیکھ رہے ہیں
*****
چھپ جاتا ہے بادل میں مگر دیکھ رہے ہیں
ہم چاند کو اب شام و سحر دیکھ رہے ہیں
کچھ روز سے بدلی ہیں محبت کی فضائیں
"اخبار کا پرچہ ہے خبر دیکھ رہے ہیں"
*****
موسم کو جو ہم زیر و زبر دیکھ رہے ہیں
احباب کو پر بارِ دگر دیکھ رہے ہیں
آمد ہے نئے سال کی خوشیوں کا سماں ہے
اخبار کا پرچہ ہے خبر دیکھ رہے ہیں
*****
ہم زِیر کو اس بار زَبر دیکھ رہے ہیں
باتوں میں محبت کا گہر دیکھ رہے ہیں
پھولوں کی مہک دیکھی ہے اب دشت میں وشمہ
"اخبار کا پرچہ ہے خبر دیکھ رہے ہیں"
وشمہ خان شمہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






