قطعات تنویر
Poet: Tanveer Ahmed By: Syed Tanveer Ahmed, karachiبوئے معشوق زمانے سے چھپانے کیلئے
میں نے ہاتھوں میں گلابوں کو اٹھا رکھا ہے
تیری خوشبو جو میرے ساتھ رہا کرتی ہے
اسلئے باغ کے نزدیک مصلے کو بچھا رکھا ہے
ہاں میں لے سکتا ہوں دولت کی یہ رنگیں دنیا
پر تیرے در سے دل اپنا لگا رکھا ہے
قطعہ
دل میں اترتا جا رہا ہے پیار کا موسم
میری آنکھوں میں وہی ملن بہار کا موسم
ملنے نہ آئے کبھی یاد تو کیا ہوتا
میری دہلیز پہ ٹھر گیا تیرے انتظار کا موسم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






