قفس میں رہنے والوں سے چمن کا حال مت پوچھو

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا

بتاؤں کس طرح تم کو وطن کا حال مت پوچھو
قفس میں رہنے والوں سے چمن کا حال مت پوچھو

کٹے ہوں جس کے بال و پر کبھی ایسے پرندے سے
بھلے سب پوچھ لو لیکن گگن کا حال مت پوچھو

یہ اشکوں کے سمندر جو پسِ مژگاں سنبھالے ہیں
تہہِ آبِ رواں موجوں کے من کا حال مت پوچھو

خبر جو ہے مرے دل کی مرے اشکوں سے تم سن لو
لگی ہے آج جو دل میں اگن کا حال مت پوچھو

مجھے میری محبت کی جو جی چاہے سزا دے لو
گلے لگ کر جو رویا ہے سجن کا حال مت پوچھو

ستاروں کی کبھی آنکھوں میں پڑھنا رازِ دل میرا
وہ دل میں ہے جو پوشیدہ لگن کا حال مت پوچھو

جو دل میں درد اٹھتا ہے تو وشمہ شعر ہوتے ہیں
مری غزلوں کی پھر بھی انجمن کا حال مت پوچھو

Rate it:
Views: 893
06 Feb, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL