قلندر کی نظر ہو تو در و دیوار چلتے ہیں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiقلندر کی نظر ہو تو در و دیوار چلتے ہیں
انہیں کے در کو ہم جیسے کئ بیمار چلتے ہیں
نہیں خوابوں کی دنیا یہ ہے میخانہ فقیروں کا
خدا سے روز ملنے کو یہاں بیدار چلتے ہیں
بھلا تپتے انگاروں پر یہاں اب کون چلتا ہے
یہ دعوی تو سبھی کا ہے کہ لینے پیار چلتے ہیں
یہی تو سوچ کر جاناں میں تم سے دور رہتا ہوں
کہیں تم یہ نہ کہہ دو کہ سمندر پار چلتے ہیں
وہ اک دن ڈھونڈ لیتے ہیں محبت کی منازل کو
شہر والوں سے جو ہو کر کبھی سنگسار چلتے ہیں
میں حیراں ہوں کہ میرے تو نہیں احباب اتنے پر
پھر اتنے کیوں مرے اطراف میں غمخوار چلتے ہیں
بھلا اس جھوٹ کی دنیا سے باقرؔ ہم کو کیا لینا
چلو کچھ دن ٹھہرنے ہم دیارِ یار چلتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






