قوت ِ عشق پہ اپنی اعتماد کر
Poet: Rana Tabassum Pasha(Daur) By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAقوت عشق پہ اپنی اعتماد کر کعبہء دل دیارِ جاں کو آباد کر
مسلک بےوفائی سے الحاد کر جفا پرستوں کے خلاف جہاد کر
گر کوئی کسی کا سودائی ہو گلی گلی اس کی رُسوائی ہو
پر معشوق جب ہرجائی ہو تو دلِ ناداں خود کو نہ یوں برباد کر
صدیوں کی انمول چاہتیں ہماری روحوں کی ہیں امانتیں
مرے حال پہ وہ عنائتیں میں یاد کروں کبھی تو بھی یاد کر
مرحلہ بھلانے کا ہے صبر آزما لاکھ کرتا رہے تو جور و جفا
میں تو ہوں وفا آشنا چاہے جتنے بھی ستم نئے ایجاد کر
بن کے شعلہء غم بھڑکتا رہا آہوں کی لَے پر دھڑکتا رہا
مرے پہلو میں جو تڑپتا رہا کہتا تھا مر جا پر نہ فریاد کر
کِھلےتھےجس جا قربتوں کے پھول اُڑ رہی ہےحسرتوں کی دھول
کیسے میں جاؤں تجھ کو بھول خدارا مجھے اپنے غم سے آزاد کر
یہ گردِ سفر یہ غبارِ کارواں دیتا ہے گمشدہ منزلوں کا نشاں
جائےگا تُو روٹھ کے جہاں جہاں چل اب بس کر دل اپنا شاد کر
سر پہ دھرا ہے دست اجل رعنا ہوتے ہوتے بھی قتل
دُکھی سی کہی ہے ایک غزل یہ خطا معاف میرے صیاد کر
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






