قوی دل شادماں دل پارسا دل
Poet: حسرتؔ موہانی By: Nusrat, Sialkotقوی دل شادماں دل پارسا دل
ترے عاشق نے بھی پایا ہے کیا دل
لگا دو آگ عذر مصلحت کو
کہ ہے بے زار اس شے سے مرا دل
جفاکاری ہے تسلیم ستم بھی
نہ ہوگا تابع جور و جفا دل
لگا کر آنکھ اس جان جہاں سے
نہ ہوگا اب کسی سے آشنا دل
مٹے افکار گوناگوں کے جھگڑے
ترے غم کو نہ دے کیونکر دعا دل
نہ پہنچے گی کبھی کیا گوش گل تک
قفس سے اڑ کے فریاد عنا دل
تو انائے صداقت ہے تو ہرگز
نہ ہوگا پیرو باطل مرا دل
بڑی درگاہ کا سائل ہوں حسرتؔ
بڑی امید ہے میری بڑا دل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






