قیامت کی حد تک
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreمیں نے چاہ لیا تجھ کو‘چاہت کی حد تک
کہ ہوا کرب شروع‘ راحت کی حد تک
سوزِ جگر ہے مگر یہی زندگی ہے
تیرے غم سے مجھے لگاؤ‘صباحت کی حد تک
سوائے پیار تو کچھ بھی نہیں دل میں
تجھ سے شکوہ صرف‘ شکایت کی حد تک
انتقام کیا لے سکوں گی میں آخر
پیار ہی پیار ہے‘عادت کی حد تک
کہ میری سانسیں تیری سانسوں سے
فدا میں تجھ پہ ‘ ہلاکت کی حد تک
گزرے جو تم بن میرا جیون او ساتھی
مجھے اُس سے نفرت ‘ ندامت کی حد تک
لکھا گیا جو میرے مقدر میں عشق
مجھے تجھ سے محبت‘بغاوت کی حد تک
تیری صفتِ وفا‘ مجھ پہ سایہءزندگی
تیرے حُسن کی ستائش‘قیامت کی حد تک
کیا کیا زیب دے تجھے‘خُدا ہی جانے
میں لکھوں تجھ کو‘ سعادت کی حد تک
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






