قید خانے کی رات اداس ہوتی ھے

Poet: Mobeen Nisar By: mobeen nisar, Islamabad

قید خانے کی رات اداس ہوتی ھے
جلتے سینے میں پیاس ہوتی ھے

لگتا ھے زنداں کے باہر ہو آئی
تیری آھٹ پاس ہوتی ھے

ہوا کے تازہ جھونکوں میں
بکھری زلفوں کی باس ہوتی ھے

تیری پازیب چھنکتی ھے یا
کسی زنجیر کی آواز ہوتی ھے

یادوں کی کتاب کھل جاتی ھے
شب۔ تنہائی تیرا ہی باب ہوتی ھے

خیال پروانوں کی طرح آتے ہیں
درد کی شمع بیتاب ہوتی ھے

دور بجتا ھے کہیں پر ساز کوئی
کسی ٹوٹے ہوئے دل کی آواز ہوتی ھے

چاند پیڑ پر اداس نظر آتا ھے
ذرد چاندنی کی رات ہوتی ھے

اٹھ کر تیرے ساتھ چل پڑتا ہوں
حائل دروازہ نہ کوئی دیوار ہوتی ھے

نیند اپنی آغوش میں لے لیتی ھے
ستارے ڈوبنے لگتے ھیں سحر ہوتی ھے

Rate it:
Views: 419
21 Aug, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL