قیدِ تنہائی مجھے بے نشاں لگتی ہے
Poet: Muzammal Mukhtar Azam By: Muzammal Mukhtar Azam, Lahoreقیدِ تنہائی مجھے بے نشاں لگتی ہے
میری خامشی ہی میری زباں لگتی ہے
خدا جانے مجھ کو یہ احساس کیوں ہے
محبت مجھے کیوں بھگواں لگتی ہے
محبت کی راہ پہ چلے تو یہ جانا
کہ بہار بھی اب تو خزاں لگتی ہے
دوستی، پیار، خلوص اور چاہت
ان سب کا محبت میزاں لگتی ہے
اکیلے جب اڑتا ہوں تم سے بچھڑ کر
اڑان بھی مجھ کو زنداں لگتی ہے
سوچوں جب بھی تمہیں چھوڑ جاؤں
تخیل میں تو پر فغاں لگتی ہے
ہو بزم یا تنہائی کا عالم مزمل
ہر سو تیری صورت نہاں لگتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






