كاسئہ - گدائی لئے پھرتی ھوں تيری ديد كی خاطر

Poet: Neelam By: Neelam, Lahore

كھو ج رھا ھے دل - مضطرب تجھے آج بھی اسی روش پر
بول ميرے محبوب ! ان راہوں پر چلايا ہی كيوں تھا

جن راہوں پر ہاتھ پكڑ كر تيرے سنگ چلی تھی ميں
چلے تھے جب ساتھ تو پھر ہاتھ چھڑوايا كيوں تھا

ديكھ تيرے فراق ميں آج بھی تڑپ رھی ھوں ميں
سب باب ختم ھيں تو پھر آج بے حساب ياد آيا كيوں تھا

تجھ سے بچھڑ كر اب تک بھٹک رھی ھوں ميں
چھوڑنا تھا تو پھر مجھے اپنا عادی بنايا كيوں تھا

ديكھ كاسئہ - گدائی لئے پھرتی ھوں تيری ديد كی خاطر
ديدار - يار‎ ‎دے جا پھر كبھی نہ كہوں گی تو آيا كيوں نہ تھا
 

Rate it:
Views: 806
07 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL