لاتعداد سوالوں کے آگے
Poet: Ch Pervaiz Afzal By: Ch Pervaiz Afzal , Jhelum/Sohawa/Dubaiلاتعداد سوالوں کے آگے
تمہاری خاموشی دیکھی نہیں جاتی
ان سبھی سوالوں کا جواب میں ہوں ناں؟
تو پھر نام لو میرا۔۔۔آپس کی بات ہے
اگر نام لینا مناسب نہ ہو تو
اشاروں کناروں سےسمجھا دینا
کیسے بدلہ تھا ہمارے پیار کا موسم
قصہ وصل وہجر سب سنا دینا
کوہی جانے انجانے میں مجھ بےوفا کہے
تو ہاں تم ہاں میں سر ہلا دینا
اگر کوہی برسات دیکھنا چاہتا ہے
تو میری آنکھوں کا پتہ بتا دینا۔
پوچھ لے اگر خزان کا کوہی
میرے چمن کا راستہ دیکھنا دینا
پرویز سوالوں کا سیلاب اگرتھمنے نہ پاے
میں ہوں ناں میری طرف بہا دینا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







