لاج رکھنا۔۔۔
Poet: Tariq Iqbal Haavi By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreمیرے صنم میری چاہ کی لاج رکھنا
مند جائیں آنکھیں تو بھی، وفا کی لاج رکھنا
یہ شہرِ شاعراں ہے، میرے بعد نہ ادھر آنا
آنچل، حُسن اور زُلفِ سیاہ کی لاج رکھنا
رعنائیِ محبت جو ہے آئند کے لئے
اور جو سنگ بیتے ہیں، سال و ماہ کی لاج رکھنا
میری نظر نے دی، تجھ کو صنم جو عظمت
اپنی نگاہ میں میری نگاہ کی لاج رکھنا
صنم سے اُمید اور تجھ پہ یقیں ہے میرا
میرے خدا میری دُعا کی لاج رکھنا
محبت کا چنگل اور سبھی عدوئے جاں ہیں
ایسے میں میرے رب، مجھ بے نواکی لاج رکھنا
اک تیرگی کا سلسلہ اور اک میری دُعا
اے خدا میرے خدا کی لاج رکھنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






