لاحاصل
Poet: Muhammad Khan Ashraf By: Uzma Ahmad, Lahoreمحبت اک پرندہ ہے
قفس میں رہ نہیں سکتا
قفس سے اڑ نہیں سکتا
محبت ایک سایہ ہے
کہ جس سورج سے بنتا ہے
اسی سے دور رہتا ہے
محبت ایک دھوکہ ہے
سمجھ کر، جان کر کھانے کو
ساری خلق زندہ ہے
محبت ایک سہارا ہے
کسی کا بن کے آتا ہے
کسی کا ہو کے رہتا ہے
محبت ایک سایہ ہے
نظر پر ہو تو پھر پتھر بھی اک انمول ہیرا ہے
دلوں پر ہو تو یوں گویا ہما کا لمس ہوتا ہے
محبت مصلحت ہے
زندگی کی تلخیوں کو چند لمحوں کو بھلانا ہو
غم دنیا کی تنہائی کو ظاہر میں مٹانا ہو
محبت ایک خوشبو ہے
کہ ہر جا ہے ہر ایک شے کو معطر کرتی رہتی ہے
دل و جاں مہک جاتے ہیں تو شامہ رقص کرتی ہے
محبت ایک لذت ہے
جو چکھیں، تلخی ایام یوں کافور ہو جائے
کہ سب کامو دہن، روح و نظر معمور ہو جائے
مگر یہ بھی حقیقت ہے
محبت اس جہاں میں خواہش موہوم لگتی ہے
محبت گرچہ زندہ ہے مگر محروم لگتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







