لب کومل ، رُخسار کومل ، بال کومل ، خیال کومل
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaلب کومل ، رُخسار کومل ، بال کومل ، خیال کومل
راستے سخت ، گرمی مہتاب اور ہے چال کومل
نکلے جو وقتِ شب تو چھتری لئے نکلے
ستاروں کی تیز لوہ ، اُنکا حُسن و جمال کومل
گلابوں کی تازگی کی جب بات ہوتی ہے
اب کیا سنائیں ہم اُنکی نرمیوں کی کہانی
سُنا ہے کہ خود کرتی ہے اُنکی دیکھ بھال کومل
خون بھی رگوں میں بہتا ہے بڑی سکونیت سے
روانی خون سے جینا اُنکا نہ ہو محال کومل
نازک ہے اُنکا مزاج، ہر ادا ، ہربقاء
شب کومل ، صبح کومل ، دن و ماہ وسال کومل
بنانے والے کا بھلا کیا حال ہوگا تب
جب بنایا ہو گا محبوبِ اَنگ اَنگ نہال کومل
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






