لبوں میں نرم تبسّم رچا کے گھُل جائیں

Poet: Ahmed Nadeem Qasmi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

لبوں میں نرم تبسّم رچا کے گھُل جائیں
خدا کرے میرے آنسو کسی کے کام آئیں

جو ابتدائے سفر میں دیے بُجھا بیٹھیں
وہ بد نصیب کسی کا سراغ کیا پائیں

تلاشِ حُسن کہاں لے چلی، خدا جانے
امنگ تھی کہ فقط زندگی کو اپنائیں

تمام میکدہ سنسان مئے گسار اُداس
لبوں کو کھول کے کچھ سوچتی ہیں مینائیں

بلا رہے ہیں اُفق پر وہ زرد روُ ٹیلے
کہو تو ہم بھی فسانوں کے راز ہو جائیں

نہ کر خدا کے لیے بار بار ذکرِ بہشت
ہم آسماں کا مکرّر فریب کیوں کھائیں

نہیں نہیں، تیرے عرفان کا سوال نہیں
جو اذن ہو تو حدِ آگہی سے بڑھ جائیں

ندیمؔ کو بھی تو مڈبھیڑ کی اُمید نہ تھی
اس اتفاق پہ آپ اس قدر نہ شرمائیں

Rate it:
Views: 464
15 Sep, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL