لبوں پے اب مرے کوئی دعا نئیں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکواللبوں پے اب مرے کوئی دعا نئیں
کہ جو مانگا تھا مجھ کو وہ ملا نئیں
وہ ہے کیا جس نے فرصت ہی نہیں دی
بڑی مدّت سے رویا نئیں ہنسا نئیں
میں نیند اب کس طرح کر لُوں اے بستر
کہ میرا کوئی خواب اب تو رہا نئیں
میں کیسے مان لُوں فرقت ہے تُو تو
پہنچ میں نئیں مگر دم بھر جدا نئیں
اے مسکان آپ سے بچھڑا ہوا شخص
کچھ ایسا اجڑا دنیا سے بسا نئیں
میں کتنا جھوٹا عاشق ہوں ناں اے جان
تمہارا ہجر گزرا میں مرا نئیں
شبِ فرقت کوئی چیخا تھا اندر
پھر اُس کے بعد مجھ میں شور اٹھا نئیں
بچھڑتے دم لہو میں تر تھیں آنکھیں
مگر صدمے سے اِک آنسو بہا نئیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






