لوٹ آؤ
Poet: MZ By: MZ, karachiکھیں وہ ملے تو اسے کھنا
کہ! لوٹ آؤ
لوٹ آؤ کہ کوئی شدت سے
بڑی مدت سے
بڑی محبت سے
تمھارا منتظر ھے
لوٹ آؤ کے کسی کی باتیں
کسی کی یادیں
کسی کی راتیں
تم بن بھت ادھوری ھیں
لوٹ آؤ کہ کوئی تم بن
پل پل، ھر پل، ھر آج، اور ھر کل
تنھا ھے۔
لوٹ آؤ کہ تمھارے دور ھونے سے
کسی کی آنکھوں میں نمی
اور زندگی میں کمی ھے
کھیں ملے تو اسے کھنا
کہ لوٹ آؤ بس اب لوٹ آؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






