لوٹ چلتے ھیں
Poet: Sahib By: sahib, Multanچلو نہ لوٹ چلتے ہیں انہی راہوں میں ملتے ھیں
وہ تانے پھر سے بنتے ھیں چلو نہ لوٹ چلتے ھیں
نئے مسافروں کی ہمراہی سے اکتآ گئے ھیں
پرانی منزلوں کی طرف چلونہ لوٹ چلتے ہیں
بڑی آس ہے کسی کو محبت کی قسم کی
وعدے کی پاسداری کو چلو نہ لوٹ چلتے ھیں
آنسو دینے والوں کے لب فریاد کرتے ھیں
کسی کو معاف کرنے کو چلو نہ لوٹ چلتے ھیں
محبت زندگی میں کھول کر خوشیاں سمیٹیں گے
دلوں کی راحتوں کے لئے ہی چلو نہ لوٹ چلتے ھیں
آشیاں پھر سے بنتے ھیں پرانی منزل پہ چلتے ھیں
چلو نہ لوٹ چلتے ھیں ، چلو نہ لوٹ چلتے ھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






