لوک کہانی
Poet: حرا عمیر By: Hira Umair, Karachiمیں وہ ہیر ہوں
کہ جس کا رانجھا
اُسے آنکھ بھر کے دیکھتا نہیں
میں وہ سوہنی ہوں
کہ جس کا ماہیوال
رازونیاز سے بےنیاز رہتا ہے
میں وہ لیلیٰ ہوں
کہ جس کا قیس
محبوب کہ محبت میں مجنوں نہیں بنتا
میں وہ شیریں ہوں
کہ جس کا فرہاد
تیشہ لیے اُسی کہ دل پر وار کرتا ہے
میں وہ جیولیٹ ہوں
کہ جس کا رومیو
اُسے مرتا دیکھ بھی جیتا ہے
ہاں! میں اِک,نئ سنڈریلا ہوں
کہ جس کا شہزادہ بڑا ظالم ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







