لوگ اور پیار
Poet: junaid karrar By: junaid karrar, srinagarتوڈ کے زنجیروں کو ہم
جوڈ کے تقریروں کو ہم
بسا لیں اپنی دنیا میرے یار
آؤ لگ جائیں گلے میرے یار
ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کے اب جی لے اس زندگی کو
خوشیوں سے بھر لے اب ہم آگے کی زندگی کو
پلٹ کے نہ دیکھیں گے کھبی میرے پیار
آؤ لگ جائیں گلے میرے یار
دنیا نہ سمجھ پائ کھبی اس پیار کو
کوئی شہوت کوئی گمراہی کہتا اس پیار کو
چھوڈ کے ان منافقوں کو بھاگ چلے میرے پیار
آؤ لگ جائیں گلے میرے یار
گر موت بھی ملے تو کوئی افسوس ہی نہیں
ساتھ مر بھی جائیں یہ داستان ہی سہی
اس پیار میں مرے ہے کتنے وفادار
آؤ لگ جائیں گلے میرے یار
یہ پیار ہی چین ہے یہ پیار ہی سکون
انسان کی پہچان ہے انسان کا ہی جنون
پیار میں ہی قرار ہے جان گیا کرار
آؤ لگ جائیں گلے میرے یار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






