لوگ ملتے ہیں
Poet: Waqas By: Waqas ahmad , Brisbaneلوگ ملتےہیں آخر بچھڑ جاتے ہیں
پھول کھلتےہیں آخربکھر جاتے ہیں
ہم محظ خواہشِ مرگ کرتے ہیں اور
جان سے لوگ اپنی گزر جاتے ہیں
کر یہ ہم کو بھی طرزِ عرض تُو نصیب
بن کہے وہ تو اپنی بات کر جاتے ہیں
ہم تو سچ بولتے ہوے بھی سوچا کریں
آپ وعدے سے کیسے مکر جاتے ہیں
ہر طرف اس دہر میں ہے ویرانگی
ہم تو اپنی صدا سن کہ ڈر جاتے ہیں
تم کو رونا ہےاُجڑےاس دل کا وقاص
روز کتنے یہاں گھر اُجڑ جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






