لوگ میری حالت کو شعر مان لیتے ہیں!
Poet: سدرہ سبحان By: sidra subhan, Kohatبے کلی کے موسم میں
جب کسی بھی برگد سے
راز کہہ نہیں پاتی
ان ضعیف لمحوں میں
سوزِ جاں سے گھبرا کر
الٹی سیدھی سوچوں کو
ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے
آڑھی ترچی سطروں میں
آگے پیچھے کر کر کے
خود سے باتیں کرتی ہوں
آگہی کی بھٹی میں
ہوش کی سلاخوں پر
بے بسی کی شدت کو
الجھنوں کے ایندھن پر
وجد میں لٹا کر میں
زہر یاس چھڑکا کر
درد پھونک دیتی ہوں
پھر بہت تسلی سے
دیدہ و دل وا کر کے
حوصلے کی کھڑکی سے
اس عجیب منظر کو
دیکھ کر تڑپتی ہوں
آگہی کے شعلوں میں
درد رقص کرتا ہے
جلتے بجھتے انگارے
دل کے نہاں خانوں سے
یادوں کے خزانوں کو
کھینچ کر جلاتے ہیں
اور پگھلتا مائع جب
خون میں اترتا ہے
تو طنابِ ہستی کا
ہر ستون گر گر کر
شور کرتا جاتا ہے
جسکی سخت دھاڑوں سے
دل کے کان پھٹتے ہیں
مایوسی کا دھواں بھی
حوصلوں کے دھانے پر
دستکیں بجاتا ہے
ایسے کسی لمحے میں
ضبط ٹوٹ جاتا ہے
غم کا سیاہ لاوہ جب
ذات کو تباہ کرکے
آہ سے نباہ کر کے
آنکھ سے نکلتا ہے
تب ہی شعر بنتا ہے
اور لوگ کہتے ہیں
شعر کتنا اچھا ہے
تم بھی اچھی شاعر ہو!
تب میں سوچتی ہوں کہ
ایسا کیا کیا میں نے
جس سے شعر بن پایا
بے سبب اداسی کو
کیوں یہ شعر کہتے ہیں
ورنہ سچ تو یہ ہے کہ
کیمیا گری میں جب
دن کو رام کرتی ہوں
ادب کی تڑپ میں پھر
اپنی شام کرتی ہوں
کرب کو آہنگ دے کر
ہر زخم کو رنگ دے کر
سر سے سر ملاتی ہوں
ہر لفظ کے ماتھے پر
زندگی کے جھومر سے
روشنی جگاتی ہوں
مجھکو تو فقط اپنے
درد سے عقیدت ہے
سوچنے کی عادت ہے
تب ہی شاید ایسا ہے
درد آہ بن کر جب
میری جان لیتے ہیں
لوگ میری حالت کو
شعر مان لیتے ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






