لوگ کیوں بس کے اجڑتے ہیں کبھی سوچا ہے

Poet: Fakhira Batool By: Shazia Hafeez, Attock

لوگ کیوں بس کے اجڑتے ہیں کبھی سوچا ہے
کس لئے جاں سے گرزتے ہیں کبھی سوچا ہے

کیسے پلکوں کی لرزتی ہوئی منڈیروں پر
سینکڑوں دیپ چمکتے ہیں کبھی سوچا ہے

گویا بہاروں مین چمن ہوتے ہیں آباد مگر
پھول پامالی سے ڈرتے ہیں کبھی سوچا ہے

رنگ چہرے کا بدل جاتا ہے پل بھر کیلئے
لوگ جب بات بدلتے ہیں کبھی سوچا ہے

جو نظر آتے ہیں آئینہ سی پوشاکوں میں
وہ بھی مٹی میں اترتے ہیں کبھی سوچا ہے

نارسائی سے نہیں مرتا کوئی، مان لیا
دل میں آرے سے جو چلتے ہیں کبھی سوچا ہے

Rate it:
Views: 1202
23 Jun, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL