لوگ ہمارا مال کھاتے رہتے ہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamلوگ ہمارا مال کھاتے رہتےہیں
اپنا بینک بیلنس بڑھاتے رہتےہیں
وہ پھر بھی آنسو بہاتے رہتے ہیں
اور ہم ہر وقت مسکراتےرہتےہیں
وہ اپنے گریبان میں جھانکتےنہیں
دوسروں پہ انگلییں اٹھاتےرہتے ہیں
جو اپنی باتوں پہ خود عمل نہیں کرتے
وہ دوسروں کو سمجھاتے رہتےہیں
شاعری پڑھ کر پڑوسنیں پوچھتی ہیں
اصغر کہیڑے استاد تمہیں پڑھاتےرہتےہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






