لڑکیاں بھی نہ بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillخواب پلکوں پہ سجا لیتی ہیں چپکے چپکے
رنگ پھولوں سے چرا لیتی ہیں چپکے چپکے
آنے والے حسین وقت کی آسیں لے کر
دل پہ پہرے سے بٹھا لیتی ہیں چپکے چپکے
بیٹھے بیٹھے کبھی خود سے بھی الجھ جاتی ہیں
دیپ یادوں کے جلا لیتی ہیں چپکے چپکے
سارا دن چہرے پہ مسکان سجا رکھتی ہیں
شب گئے اشک بہا لیتی ہیں چپکے چپکے
جب کبھی نارسائی حد سے گزر جاتی ہے
خود کو آئینہ بنا لیتی ہیں چپکے چپکے
سہتی جاتی ہیں ان کہی کہانیوں سے دکھ
روح پہ برف گرا لیتی ہیں چپکے چپکے
کسی کے پیار کی جنت نظیر دنیا میں
اپنی ہستی کو مٹا لیتی ہیں چپکے چپکے
گماں کی دلنشیں وادی میں سفر کرتے ہوئے
کونپلیں دل میں کھلا لیتی ہیں چپکے چپکے
در خیال سے چن چن کے وفا کے موتی
اپنے دامن میں سجا لیتی ہیں چپکے چپکے
ڈائری میں کسی کے نام کی لکھ کر نظمیں
تتلیوں کو ہی سنا لیتی ہیں چپکے چپکے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






