لڑکیوں کی چاہت بھی لڑکیوں سی ہوتی ہے
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillان کھلے گلابوں کی
کونپلوں سی ہوتی ہے
ہر سمے بدلتے ہوئے
موسموں سی ہوتی ہے
پل میں جاگ اٹھتی ہے
پل میں سو بھی جاتی ہے
قطرہ قطرہ بہتی ہے
اور کھو بھی جاتی ہے
بے بسی سی اک اس میں
آنسوؤں سی ہوتی ہے
رات کی سیاہی میں
نور بن کے آتی ہے
روح کے جزیروں کو
آ کے یہ سجاتی ہے
روشنی مگر اسکی
جگنوؤں سی ہوتی ہے
دو گھڑی کی محفل میں
جھومتی ہے ۔ گاتی ہے
دے کے درد صدیوں کے
پل میں لوٹ جاتی ہے
کاغذی گلابوں کی
خوشبوؤں سی ہوتی ہے
تھوڑا دور چلتی ہے
اور تھک سی جاتی ہے
اک ذرا سی آہٹ سے
سہم سہم جاتی ہے
لڑکیوں کی چاہت بھی
لڑکیوں سی ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







