لکھ لکھ کے کئی لفظ مٹاتا رہا ہوں میں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillپلکوں پہ رکے اشک چھپاتا رہا ہوں میں
یوں زندگی بھر آ گ بجھاتا رہا ہوں میں
لاؤں کہاں سے گیت جوقابل ہوں تمہارے
لکھ لکھ کے کئی لفظ مٹاتا رہا ہوں میں
لمحوں نے میری روح سے پائی ہے زندگی
دل دل میں نئے دیپ جلاتا رہا ہوں میں
تم جھوم گئے ہو جنہیں تعبیر سمجھ کر
وہ خواب تھے جو تم کو سناتا رہا ہوں میں
اب کیا کرے کہ بھنور کی عادت سی ہے اسے
کشتی کو کنارے تو دکھاتا رہا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






