لکھتی ہے کوئی تو حسرت تو نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا شام ہے یاد کی صورت تو ںہیں
چاند کی گود میں حیرت تو نہیں
اٹھ نہ جائے یہ کہیں وصل کی رات
عکس تقدیس کی صورت تو نہیں
اپنی کشتی کو کنارا لگا دے
اس سے بڑھ کر تو عبادت تو نہیں
خالی ہاتھوں میں دعاؤں کے سوا
لکھتی ہے کوئی تو حسرت تو نہیں
تیری ہی ذات سے منسوب رہوں
تیرے حصے میں کدورت تو نہیں
آشنا دنیا سے کچھ ایسے ہوا
تیری یادوں کی شکایت تو نہیں
بات ہی بات میں مٹ جائے کئی
جس کی چاہت کی ضرورت تو نہیں
ایسے منصف سے امیدیں کیا ہوں
جس سے اپنی ہی وکالت تو نہیں
ہم تو بس دیکھ ہی سکتے ہیں تجھے
وشمہ ایسی یہ جہالت تو نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






